سپل
اے ہک سرائیکی قبیلہ اے جیہڑا وسیب دے مختلف علاقیاں اچ آباد اے۔
سَپل(Sappal , Sippal Suple ,Suppal, Sinpal , Saple,)[١]
سَپل قبیلہ کے لوگ برصغیر پاک وہند میں بعض مقامی اور علاقائی سطح پر سَپل،سِپل، سُپل، سپپال، سَپل پال، سِنپال کے نام سےبھی جانے جاتے ہیں۔ مختلف علاقوں مختلف نام لکھا اور بولا جاتاہے۔
سَپل قبیلہ کے لوگوں کو مختلف القابات دیے گئے ہیں جن میں سردار ، ملک، مہر، چوہدری، جام، راجہ، اور راجپوت قابلِ ذکر ہیں
سَپل کا لفظی معنی *"زُورآور جوان یا طاقتور جوان"* کے ہیں[٢]
سَپل ہزاروں سال پرانا جٹ قبیلہ ہے، جو کہ سورج بنسی جٹوں میں *طُور* یا *طُومرا* کی نسل سے ہزاروں سال پرانا قبیلہ ہے ۔جو اپنی سادگی، بہادری، شرافت ٫جفاکشی، وفاداری کے لیے مشہور ہے۔ یہ قبیلہ برصغیر پاک وہند سمیت دنیا کے بہت سے ممالک میں بڑی تعداد میں آباد ہے۔ پاکستان میں ملتان، رحیم یار خان ، ڈیرہ اسماعیل خان ، ڈیرہ غازی خاں ، سیالکوٹ ، راولپنڈی ، کشمیر ،لیہ بھکر ، جھنگ،میانوالی ، دادو، لاڑکانہ ، ٹھٹہ بدین، سکھر ،اور شکار پور میں کثیر تعداد میں آباد ہیں۔اس کے علاوہ انڈین پنجاب اور بنگلہ دیش ملیشیا انڈونیشیا میں بڑی تعداد میں آباد ہیں۔[٣]
سَپل قبیلہ کے لوگ مختلف ادوار میں دوسرے قبیلوں کے ساتھ جڑے رہنے اور اپنے کام کی وجہ سے دوسرے قبیلوں میں انکا شمار ہوتا رہا ہے[٤]
*A Glossary of Tribe and castes* میں بھی اس کا ذکر موجود ہے کہ مختلف پیشے اپنانے کی وجہ سے سَپل قبیلہ کو دوسرے قبیلوں کی ایک ذیلی شاخ کے طور پر [٥]
پہچانا جاتا رہا۔
سَپل قبیلے کے لوگ زیادہ تر پنجابی ، سرائیکی ، پوٹھوہاری[٦]
سندھی اور مختلف علاقوں کی نسبت اپنی اپنی زبانیں بولتے ہیں [٧]
مغلیہ دورThe Punjab Cast
کتاب کے مطابق سپل قبیلہ کے لوگوں کو مغلیہ دور میں اپنی بہادری کی وجہ سے(Marksman) نشان دار کہا جاتا تھا[٨]
سَپل قبیلہ کی مختلف علاقوں میں کئی معززین ،سیاسی و سماجی شخصیات مشہور ہیں [٩]
ان میں
*ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخواہ محترم غلام محمد سپل صاحب،*[١٠]
"محترم جناب ظفر سَپل صاحب"ادیب،کالم نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں انکی مشہورِ زمانہ کتاب "مسلم فلسفہ کا تاریخی ارتقاء الکندی سے ابنِ خلدون تک" بہت مشہور ہے [١١]
محترم جناب چوہدری ندیم سپل CEO Nesto Group of Company[١٢]
محترم جناب ایڈووکیٹ شبیر سَپل اسلام آباد ہائی کورٹ [١٣]
محترم جناب ڈاکٹر اللہ نواز سَپل ادیب،تنقید نگار، نعت گو شاعر اور ایک کتاب کے مصنف "شاعری دِے گر" جو کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے سرائیکی نصاب میں شامل ہے*[١٤]