Jump to content

کلامِ شاکر

وکیپیڈیا توں

2002ء وچ اے کتاب پہلی واری شائع تھئی ہئی ۔ شاکر شجاع آبادی دیاں ورتیاں ڳیاں اصناف غزل ، ݙوہڑہ ، قطعہ ، گیت تے نظماں وچوں حمد و نعت دیاں ونکیاں پاتیاں ویندن۔

ظہور دھریجہ لکھدن:

’’بلاشبہ شاکر شجاع آبادی ہمارے نوجوان نسل کا پسندیدہ اور مقبول شاعر ہے ، وہ جب پڑھ رہا ہوتا ہے تو ہزاروں کے مجمعے میںخاموشی اور ہو کا عالم طاری ہوتا ہے ۔ سامعین ان کے کلام کو گوشِ جاں سے سنتے اور چشم قلب سے پڑھتے ہیں ، وہ سرائیکی زبان کا واحد خوش قسمت شاعر ہے جو سب سے زیادہ پڑھا اور سنا گیا ہے ، اس کی باتیں فکر اور دانائی کی باتیں ہوتی ہیں ، وہ جو بات کرتا ہے دل والی کرتا ہے اور ’’دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے‘‘ کی مانند اس کے شعروں کی باتیں پُر تاثیر اور پُر مغز ہوتی ہیں ، میں سمجھتا ہوں دانائی کی ایسی باتیں کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں        ؎

بات ہیرا ہے ، بات موتی ہے

بات لاکھوں کی لاج ہوتی ہے

’’بات‘‘ ہر بات کو نہیں کہتے

بات مشکل سے ’’بات‘‘ ہوتی ہے‘‘

ظہور احمد دھریجہ دی سرائیکی ادبی خدمات دا جائزہ (مقالہ نگار: شائستہ ظہور،بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان)  نگران مقالہ: ڈاکٹر محمد ممتاز خان کلیانی