Jump to content

پری

وکیپیڈیا توں

ایہ وی ہک فطری تے مافوق الفطرت کردار ہے ۔ لیکن جن ، دھیہ آلی کار ایندا نشابر تھیوݨ تاں مافوق الفطرت ہے پر ایندا عمل تے ردِ عمل بالکل فطری تے انسانی ہے ۔ پری ہمیش مثبت کردار وچ نشابر تھیندی ہے اَتے نیک لوکیں دی مدد کریندی ہے ۔ انہاں کوں کوراہے کنوں بچیندی ہے اَتے انہاں دیاں مشکلاں اَتے کشٹ کٹیندی ہے ۔

ڈاکٹر سعدیہ نسیم ’سرتاج‘ پری دے کردار تے بھرویں ڳالھ مہاڑ کریندن:

’’دیووں کے مقابلے میں پریوں کی اپنی ہی کائنات ہے ، پریاں خود پسند ، بے پروا اورچُلبلی ہیں ۔دیووں سے زیادہ ہوشیار اور حرفتی ہیں ۔ ان کے پاس طاقت دیووں سے زیادہ ہے اور دیو گویا ان کے مطیع ہیں۔ اسی لئے دیووں کے لشکر پریوں کے حکم کے ماتحت ہیں ۔ پر اکیلی پری ، اکثر طاقت کے سامنے بے بس ہے ۔ طاقتور دیو اکیلی پری کو اپنے پاس لے جا کر بند کر لیتے ہیں اور کوئی پری دیو کی بیوی بھی بن جاتی ہے ۔‘‘

انسان کے لئے پریوں کی دنیا عجائبات کی دنیا ہے ۔ بلکہ کرشموں اور طلسمات کی دنیا ہے ۔ پریاں اکثر ٹولیوں کی صورت میں اُڑتی ہیں اور تالابوں پر آ کر نہاتی ہیں۔ باغوں میں آ کر سیر کرتی ہیں یا بعض بستیوں میں رہتی ہیں۔ مثلاً پریوں کی ایک بستی ’’نیند بستی‘‘ ہے جہاں ہر کوئی نیند میںہے۔ پریاں محلات میں گہری نیند میں ہیں تو چوکیدار اور دیو دروازوں پر غفلت کی گہری نیند سو رہے ہیں ۔ پریوں کے محل سونے، چاندی اور ہیرے جواہرات سے جُڑے ہوتے ہیں۔پریاں کتنے ہی کرشمے کر سکتی ہیں ۔ پریوںمیں کوئی دوسری صورت اختیار کرنے اور پھر اپنی اصلی صورت میں آجانے کی طاقت ہے ۔ تلوار سے پری کا سر الگ ہو جاتا ہے اور وہ روپے کا تنا بن کر کھڑی ہو جاتی ہے ۔ دوسری پری سَر پر اُتر جانے پر اس تنے کی سونے کی ڈالیاں بن جاتی ہے ۔ تیسری اس کے جواہراتی پتے بن جاتی ہے اور چوتھی ان میں لعل بن کر لٹکنے لگتی ہے ۔ ہر ایک پری کا کرشمہ الگ الگ ہے ۔ ’’گلاں پری‘‘ کا لباس پھولوں کا ہے ۔ موتی جان پری کے خون کے قطرے ، موتی میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ گلزار پری کے دئیے ہوئے اناروں میں دانوں کے بجائے ہیرے ہیں۔

اکیلا انسان اگر کہیں پریوں کی ٹولی کے ہتھے چڑھ جائے تو اسے ایک کھلونا بنا کر کھیلتی ہیں۔ دن کو اس کے ہاتھ پائوں الگ کر دیتی ہیں اور رات کو پھر سے اسے ٹانگیں ہاتھ دے کر ، اس سے ساز بجوا کر خود ناچتی ہیں ۔ انسان کو پریوں کے منتر اور کرشموں سے بچنے کے لئے خاص طور پر کسی دوسری پری کے دئیے ہوئے تعویذ یا منتر کی ضرورت ہے ۔ وہ کسی حرف یا حیلے سے ہی ان پریوں کی پچھاڑ سے بچ سکتا ہے اور ان سے وعدہ لے کر اپنے کو محفوظ کر سکتا ہے ۔ البتہ اگر کہیں کوئی اکیلی پری دیو کی قید میں ہے یا کسی مصیبت میں پھنسی ہے اور کوئی انسان آ کر اسے چھڑاتا ہے تو وہ اس کی شکر گزار اور مطیع بن جاتی ہے بلکہ اس کے ساتھ شادی کر لیتی ہے اور عمر بھر اس کی وفادار رہتی ہے۔‘‘(17)

پری دا کردار درحقیقت سرائیکی اکھاݨ ’’ہتھ دا ݙتا اڳوں آندے‘‘ دی عملی تفسیر ہے ۔یا ادیان وچ جیویں آکھیا ویندے جو نیکی کرو کیوں جو تہاݙی نیکی کہیں ویلییٔ وی بُرے وقت وچ تہاݙے کم آندی ہے ۔ ’’پری‘‘ دا کردار درحقیقت انسان تے اپݨی نیکی اَتے سِدھ نیتی دا عملی اظہار ہے ۔ جیڑھا اوکھے ویلے بندے کوں پکردے ۔ سرائیکی لوک قصّیاں وچ ایہ کردار وی جنگل وچ موجود نیک ٻڈھڑیاں وانگوں راتاں کوں ٹکیندن ۔ مانی پاݨی ݙیندن، انہاں کوں مصیبت وچوں بچیندن اَتے سدھی راہ ݙسا تے دُعائیں ݙیندن۔

سرائیکی لوک قصیاں دے کردار، مصنف : شہزاد اسد خان لغاری ، ناشر: جھوک پرنٹرز ‘ ملتان