Jump to content

ورتݨ آلا:فہد کھاڑک

وکیپیڈیا توں

اردو سرائیکی شاعر : فہد کھاڑک

اصل ناں : محمد فہد

قلمی ناں:فہد کھاڑک

شروعات شاعری : 2017

کتاب: انڈر پراسس


رہائش: موضع علی کھاڑک احمد پور شرقیہ بہاول پور

نمونہ کلام:

سرائیکی غزل:

گزریے وقت دی یاد دِہانی ہوندی اے

‏‎ گھر دی جیرھی چیز پرانی ہوندی اے


‏‎تیکوں ڈیکھ تے اج میکوں معلوم تھئے ‏‎

پُھلیں دی تئیں وانگ جوانی ہوندی اے

‏‎ پئلھے یاد دے بادل زور دے وسدے ہِِن ‏‎

ول ونج تے ہِک شام سہانی ہوندی اے

‏‎ ہر چہرہ خود حال ہے اپنے ہوون دا ‏‎

ہر چہرے دی انت کہانی ہوندی اے

‏‎ مئے خانے وچ بہے تے اکثر سوچا ھِِم ‏‎

چھوٹی عمر وی کیا مستانی ہوندی اے


تیڈی مونجھ دا منظر ایویں ہوندا ہے


ہنجھواں دی بے انت روانی ہوندی ہے


عشق فہد جے کہیں دا دامن گیر ہووے ‏‎

یاد اونہیں دی رات دی رانی ہوندی ہے

‏‎فہد کھاڑک❣️

غزل : اکثر تجھے ڈراتی ہے دنیا کبھی نہ ڈر


کرتی رہے گی روز تماشہ کبھی نہ ڈ


عادت بنا لے سہنے کی دن رات کا ستم


آئے گا دن تمہارا بھی اچھا کبھی نہ ڈر


تھک جائیں گے وہ طعنہ زنی کر کے رات دن


اے حسن ہو رہا ہے جو چرچا کبھی نہ ڈر


ساقی پلا دے جام مجھے اپنے ہاتھ سے


رکھا ہوا ہے ساغر و مینا کبھی نہ ڈر


بادل کہیں سے آئے گا آ کر بجھائے گا


ظالم جو لیکے آیا شرارا کبھی نہ ڈر


رستے کے پیچ و خم کا تو کرنا نہ کوئی غم


منزل کرے گی خود ہی اشارا کبھی نہ ڈر


موسیٰ کا جادو گر ابھی آکر ڈرائے گا


بے ساکھیوں کا لیکے سہارا کبھی نہ ڈر


تو پاک صاف ہے تو خدا تیرے ساتھ ہے


خود کو فہد سمجھ کے اکیلا کبھی نہ ڈر


فہد کھاڑک ❣️