ملک منظور احمد بھٹہ دا قلمی سفر
سئیں ملک منظور احمد بھٹہ صاحب اساݙے بزرگ ہن ، میݙے کیتے لائق صد تعظیم تے پیو ماء دی جاہ تے ہِن کیوں جو میݙے اَبّا حضور ڈاکٹر طاہر تونسوی صاحب مرحوم دے جماعتی تے سنگتی ہن ۔ میݙے ابّا سئیں ملک صاحب دی کتاب بارے لکھݨا چاہندے ہَن پر لکھݨ توں پہلے اللہ کوں پیارتھی ڳئے ۔ میں اُنہاندی جاہ تاں نی گھن سڳدا پر اُنہاندے پیریں تے ٹُرݨ دا ترلا ضرور کریساں کیوں جو میݙے ابّا سئیں وی ایہو چہندے ہَن جو میݙی اولاد میݙے نقش تے ہووے ۔ علامہ اقبال فرمائے :
باپ کا علم بیٹے کو اگر نہ از بر ہو
تو وارث میراث پدر کیونکر ہو
میں ہک ڳال آکھساں جو میݙے ابّا سئیں تے ملک منظور احمد بھٹہ دی سوچ تے فکر وچ یکسانیت ہے ۔ ملک صاحب دی کتاب ’’تونسہ کا منظرنامہ‘‘ توں ہک اقتباس ملاحظہ فرمائو،آپ صفحہ13تے لکھدن:
سکھوںکی عملداری آئی ، انگریزوں نے ڈیرہ جات کا علاقہ ایک یونٹ بنا کر یہاں کے روایتی قبائلی نظام کی پختہ بنیادوں پر اپنا جھنڈا گاڑنے کی سعی کی تو انہیں یہاں کے باشندوں کی نسبت وڈیروں اور سرداروں کو جن کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی ، راضی کرکے اپنے راج پاٹ کو یقینی بنانے کا ایک مربوط سلسلہ شروع کیا ۔ وہ جانتا تھا کہ زمینی حقائق اور جغرافیائی حدودکی مضبوطی اور درمیان میں مائٹی انڈس کے وجود سے ان کی براہ راست ضرب بے کار ثابت ہو سکتی ہے لہٰذا اس نے آسان راستہ تلاش کیا ۔ ڈیرہ جات کی پوری پٹی کو پہاڑوں سمیت ڈیرہ اسماعیل خان کی حدود سے کشمور تک برابر فاصلوں میں تقسیم کر دیا جو مغرب سے بجانب شرق دریائے سندھ تک پھیلا ہوا تھا ۔ سرداروں کے سپرد کر دیا اس طرح تمنداری نظام رائج کر دیا ۔ یہ نظام مغلوں کے منصب داری نظام کا چربہ تھا کی جدید شکل میں لایا گیا تاکہ انگریز راج کے خلاف نہ تو بغاوت ہو سکے اور نہ ہی کوئی زبان کھول سکے ۔ اور اس طرف سے سب اچھا رہے ۔ تونسہ کے اس علاقے میں کھیتران ،نتکانی ، قیصرانی ، بزدار ، موہوٹی کھوسہ ، قبائل اور مغربی سمیت ڈیرہ جات کے بقیہ حصے بشمول راجن پور اور روجھان بالترتیب لُنڈ ، کھوفلی کھوسہ ، لغاری ، گورچانی ، دریشک اور مزاری قبائل کی تمنداریاں قائم کر دی گئیں اور ان کے زیر اثر علاقہ کے امن و امان کی تمام تر ذمہ داری ان پر ڈال دی گئی ۔ ان کے ماتحت مقامی اداروں کی طرز پر ذیلدار ، رسالدار ، نمبردار اور چوکیدار ہوتے جو علاقے میں امن کے قیام کے اداروں کی نگرانی اور علاقے کی مالیات کا انتظام و انصرام نبھاتے ۔ یہ تمام عہدے اعلیٰ اقدار کے حامل تصور ہوتے اور موروثی طور پر چلتے رہتے اس کے ثبوت کے طور پر مشہور تمنداروں میں اللہ نواز خان درانی ، سردار پیندا خان ، سردار عظیم خان نتکانی اور دیگر نام شامل ہیں جن میں فضل خان ، ذیلدار عبداللہ خان ، خان محمد خان معروف ہیں ، اسی خاندان کے حافظ برخوردار چچہ ابھی تک حیات ہیں۔
بعض مؤرخ اس نظام کو انگریزوں کی حاشیہ برادری کا اعلیٰ نمونہ اور مقامی مسلمانوں کی وفاداریاں حرید کر اس کے عوض وسیع تر جاگیری ، مراعات اور مجسٹریٹی اختیارات دینے کو ’’قومے فروختند‘‘ کا درجہ بھی دیتے ہیں۔ مگر یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یہی نظام معمولی سی تبدیلی کے بعد اب تک قائم ہے البتہ معاشرتی اور جغرافیائی تبدیلی کی وجہ سے کئی نئے خاندان بھی اس میں شامل ہو گئے ہیں جن میں ملغانی ، بغلانی ، تنگوانی ، لعلوانی ، کلاچی ، ماکلی اور احمدانی سرفہرست ہیں۔ یہ قبائل باقاعدہ انگریزوں کے لگائے ہوئے پودے نہ تھے بلکہ سردار اسلم خان ملغانی تو اپنی انگریز مخالفت میں اس علاقے کا ایک ایسا ہیرو ہے جس نے افغانستان کی طرف جلاوطنی تو قبول کر لی مگر انگریز کی مسلم کش پالیسیوں کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔
اس ساری معروضی صورتحال کے تناظر میں ایک سوال نمایاں طور پر سر اٹھا رہا ہے کہ ایک نظام تو انگریزوں کا کاشتہ تھا آخر دوسرے قبائل نے قوت کیسے پکڑلی۔ اس کا مختصر سا جواب یہ ہے کہ ان کی قوت انگریزوں کی مراجعت کے بعد شروع ہوئی ۔ جب سیاسی اور معاشرتی باہم گڈمڈ ہو کر معاشیات کے تابع ہوئے تو معیار صرف دھن رہ گیا۔ جس کی بناء پر ہزاروں کی تعداد میں نئے نئے روپ اور نت نئے سوانگ رَچا کر سردار جاگیردار اور وڈیرے مذہبی طبقہ اور پیر فقیر پیدا ہوتے گئے اور آخر کار علم دانت ، متانت ، حکمت ، دانائی سب کے سب سیاست کے تابع ہو گئے۔
اے ہن ملک صاحب دے خیالات تے ایہے خیالات میݙے ابّا حضور دے ہِن ، میݙی دُعا ہے جو اللہ سئیں میݙے چاچا سئیں عزت مآب ملک منظور احمد بھٹہ صاحب دی کتاب کوں ودھ توں ودھ سوبھ ݙیوے ۔ آمین
عامر حفیظ ملک
ایمرسن کالج ملتان
حوالہ
[لکھو | ماخذ وچ تبدیلی کرو]کتاب: پیریں دے ٻیر ، مصنف : پروفیسر(ر) ملک منظور احمد بھٹہ، چھپیندڑ: جھوک پبلشرز ملتان