ظہور دھریجہ ہک متنازعہ شخصیت
اے مسلمہ حقیقت ہے جو ظہور دھریجہ دے جتھاں چاہݨ آلے ٻہوں ہِن اُتھاں اُنہاں دے ناقدین دی وی کمی کائنی ۔ صحافت دے حوالے نال ظہور احمد دھریجہ دیاں جتھاں ٻہوں خدمتاں ہن اتھاں اے وی ہے جو آپ دے کالم تے تحریراں متنازعہ بݨدیاں رہ ڳن۔ نذیر الحق دشتی نقشبندی مہتمم مدرسہ احسن العلوم نذیر آباد کچا رازی بھونگ تحصیل صادق آباد ضلع رحیم یارخان ہک کتاب ’’ظہور دھریجہ کا بھیانک چہرہ ‘‘دے ناں نال شائع کیتی ۔ای کتاب اِچ طابع تے ناشر شعبہ نشرو اشاعت مدرسہ احسن العلوم کچا رازی لکھیا ڳیا ہے ۔ سن اشاعت پہلی دفعہ2018ء درج ہے ۔ رابطہ کیتے انور قریشی ، اکبر اینڈ کو غلہ منڈی شجاع آباد ،ݙوجھا ناںاشرف قریشی کاشانہ القریش بابا حضرا شاہ شمس روڈ ملتان دا ہے ۔ تریجھا ناں مسعود احمد سعودیہ بک سنٹر فیصل بازار ،صادق آباد دا ہے ۔ اے کتاب119صفحیں دی ہے ۔ ایندے وچ عرض حال دے وچ نذیر الحق دشتی لکھدن :
’’قارئین محترم ! ظہور دھریجہ کے غلط ارادوں ، رویوں اور فتنہ پردازیوں سے عوام کو آگاہ کرنے کے لئے یکے بعد دیگرے میں پانچ کتابیں لکھ کر شائع کر چکا ہوں ۔ سب سے پہلی کتاب ’’سرائیکی پنجابی اور سرائیکستان‘‘ کے نام سے اس کے بعد ایک اور کتاب ’’سرائیکیون‘‘ کے نام سے ، اس کتاب میں ظہور دھریجہ سے میں نے 52جواب طلب سوالات بھی کئے ۔ وہ ان میں سے میرے ایک سوال کا جواب بھی نہ دے سکے ۔ اس کے بعد میں نے ’’سرائیکیون‘‘ کا دوسرا ایڈیشن ترمیم و اضافہ کے ساتھ لکھ کر شائع کیا ۔ اُس کتاب میں جو میں نے ظہور دھریجہ سے 52سوالات کئے تھے اُن میں سے مشکل ترین9سوالات مہنا کرکے اس کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں 41سوالات باقی چھوڑے ، تاکہ ظہور دھریجہ کو ان باقی سوالات کے جوابات دینے میں آسانی ہو ۔ مگر وہ میرے ان سوالات میں سے بھی کسی ایک سوال کا جواب تک نہ دے سکے ۔ انہوں نے 7فروری 2018ء کے روزنامہ ’’خبریں‘‘ کے کالم میں لکھا کہ مولانا نذیر الحق دشتی کے سوالات جو انہوں نے اپنی کتاب ’’سرائیکیون‘میں مجھ سے کئے تھے ، میں نے ان سب کے جوابات دے دئیے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے مجھے ان سوالات کے کوئی جوابات نہیں دئیے اور نہ قیامت تک ان کے جوابات دے سکتے ہیں۔ پھر میں نے ’’مراسلہ‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھ کر شائع کی ۔ اس کے بعد میں نے ’’ظہور دھریجہ کی گل نشانیاں‘‘ کے نام سے ایک اور کتاب لکھ کر شائع کر دی ۔ ظہور دھریجہ صاحب میری کتابوں کی تردید کرنے اور میرے سوالات کے جوابات دینے کی بجائے میری ہر کتاب کے بعد مجھ پر روزنامہ ’’خبریں‘‘ کے اپنے کالموں میں اپنی گندی عادت کے مطابق صرف زبان ماری کئے رکھتے تھے ۔ مگر میں اپنے خلاف ان کے کالموں کو پڑھ کر رنجیدہ خاطر ہونے کی بجائے ہنس دیا کرتا تھا۔
مولوی نذیر الحق دشتی نقشبندی
[لکھو | ماخذ وچ تبدیلی کرو]ایں کتاب دے جواب اِچ ظہور احمد دھریجہ نیں ملک محمد عامر بھٹہ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ دی معرفت ازالہ حیثیت عرفی دا نوٹس بھیجا تے نذیر احمد دشتی کوں آکھیا جو نذیر دشتی وضاحت کرے ،نہ تاں اوندے خلاف قانونی کارروائی کیتی ویسے تے تمام حرجے خرچے دا او خود ذمہ وار ہوسے ۔
نوٹس اِچ لکھیا ڳیا :
(1) طابع و ناشر شعبہ نشرو اشاعت مدرسہ احسن العلوم کچا رازی لکھا گیا ہے۔
آغاز میں ہی جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لیا گیا کہ طابع کا مطلب ہے ، پرنٹنگ پریس چھاپہ خانہ ہمارے علم کے مطابق کچا رازی میں نہ تو کوئی پرنٹنگ پریس ہے اور نہ ہی مدرسہ احسن العلوم کے نام سے کسی چھاپہ خانہ کا کوئی ڈیکلریشن منظور ہوا ہے ۔ اگر چھاپہ خانہ ہے تو نذیر الحق دشتی اس کا ڈیکلریشن دکھائیں اور یہ بھی بتائیں کہ کس کے نام پر ڈیکلریشن ہے اور ان کے پاس کون سی پرنٹنگ مشین لگی ہوئی ہے ۔؟
(2) رابطہ کیلئے انور قریشی کا نام دیا گیا ہے جو کہ میرے خلاف خبریں کی بحث میں شریک ہے اور بہت ہی متعصب شخص ہے۔اسی طرح دوسرا نام ملتان کے اشرف قریشی کا ہے جو کہ سرائیکی دشمنی میں بدنام ہے ۔ وسیب ٹی وی چینل پر وہ لفظ سرائیکی پر میرے ساتھ جھگڑا اور بدتمیزی کر چکا ہے اور سرائیکی وسیب دشمنی میں اپنی مثال آپ ہے۔ تیسرے نام مسعود احمد سعودیہ بک سنٹر صادق آباد کا ہے جو کہ ایک سرائیکی دشمن بشیر احمد بے تاب کا اہلکار ہے ۔ یہ تینوں شخص میرے ساتھ اس بنا ء پر دشمنی رکھتے ہیں کہ میں سرائیکی کی جنگ لڑتا ہوں اور میرے اخبارات میں شائع ہونے والے کالموں اور میری کتابوں میں درج دلائل کا جواب دینے کی بجائے یہ ہمیشہ گالم گلوچ پر اُتر آتے ہیں ۔ یہی اشخاص اس بدبودار کتاب کو لکھوانے کا باعث ہیں ۔سرمایہ پنجابی شائونسٹ بشیر بے تاب نے خرچ کیا ہے اور آپ نے دولت کی لالچ میں اخلاقیات کی دھجیاں بکھیر دی ہیں ۔ آپ نے جو کجھ لکھا جھوٹ لکھا ، آپ نے میری جنگ کتابوں کا حوالہ دیا ہے وہ اب بھی موجود ہیں اور میں پورے یقین کے ساتھ اپنی ایک ایک سطر ذمہ داری لیتا ہوں۔
آپ نے علمائے سُو کا کردار ادا کرتے ہوئے قرآن حدیث اور دین کے حوالہ جات کو بھی تروڑ مروڑ کر بیان کیا ۔ اس سے پہلے بھی وسیب دشمنوں سے تم نے دولت لے کر وسیب کے خلاف متعدد پمفلٹ لکھے جس کا میں نے آپ کو کافی و شافی جواب دیا ۔ اب اگر آپ نے وضاحت نہ کی اور معافی طلب نہ کی تو پھر آپ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتا ہوں ۔
نذیر الحق چشتی کی چٹھی
[لکھو | ماخذ وچ تبدیلی کرو]ظہور دھریجہ بتاتے ہیں کہ میرے نوٹس کے جواب میں نذیر الحق دشتی نے ڈاکخانے کے ذریعے رجسٹرڈ خط لکھا جس میں اس نے لکھا کہ میں بہت بڑھا ہو گیا ہوں میری عمر کو دیکھتے ہوئے مجھے معاف کر دیں ۔
’’سرائیکیون‘‘:
[لکھو | ماخذ وچ تبدیلی کرو]نذیر الحق دشتی نقشبندی کی ایک اور کتاب ’’سرائیکیون‘‘ کے نام سے آئی ۔ اس کی تاریخ اشاعت 2016ء ہے ۔ طابع و ناشر شعبہ نشرواشاعت مدرسہ احسن العلوم نذیر آباد کچا رازی لکھا گیا ہے ۔ حالانکہ احسن العلوم کے نام سے کوئی چھاپہ خانہ نہیں ہے ۔ نذیرالحق دشتی کی چند سطریں اس کی پوری کتاب کو سمجھنے کیلئے کافی ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں کہ
’’تاریخ سے بخوبی واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس جٹستان (جنوبی پنجاب) پر زمانہ قدیم سے ہمیشہ باہر کی قومیں حکمرانی کرتی رہیں۔ 500ء میں رائے خاندان کی یہاں پر حکومت قائم ہوئی ۔ یہ لوگ شودر (اچھوت) تھے ۔ ہماری زبان میں ان کو ڈھیڈھ اورمینگھوال کہا جاتا ہے ۔ آج بھی ڈھیڈوں (مینگھوالوں) کو مہاراج کا لقب حاصل ہے ۔ ان ڈھیڈھ حکمرانوں کا دارالحکومت اروڑ(الور) تھا ۔روہڑی (سندھ) سے تین میل جنوب کی طرف اس کے کھنڈرات اب بھی موجودہیں‘‘۔
اس پر ظہور احمد دھریجہ کہتے ہیں کہ نذیر احمد دشتی سرائیکی کے ساتھ ذاتی بغض رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ وسیب دشمنوں کے آلہ کار کے طور پر کام کرتا ہے اور یہ عظیم سرائیکی قوم کی مسلسل توہین کرتا ہے ۔ ظہور احمد دھریجہ کہتے ہیں کہ واضح ہوا کہ نذیر الحق دشتی سرائیکی خطے کو جٹستان کا نام دیتا ہے اور سرائیکی کو جٹ کہتا ہے اور اگلی سطر میں لکھتا ہے کہ اس جٹستان کے جٹوں نے ڈھیڈرانائوں نے 130برس حکومت کی ۔(انٹرویو)
صفحہ 13پر کچھ مزید باتیں کے عنوان سے نذیر الحق دشتی لکھتے ہیں کہ
میری تصنیف کردہ کتاب : سرائیکی پنجابی اور سرائیکستان : صحیح اور سچی حقیقتوں پر مبنی ہے ۔ یہ کتاب سرائیکی کہے جانے والوں کے خلاف ہے نہ پنجابی زبان بولنے والوں کی طرفداری میں ہے ۔ میں نے اس میں سرائیکی کہلانے والے شوریدہ دماغوں کو آئینہ دکھا کر پنجابی زبان بولنے والوں سے صلح و اتفاق اورامن و آشتی کے ساتھ بھائی چارے کی فضا میں زندگی گزارنے کی ایک مصالحانہ کوشش کی ہے ۔ مگر سرائیکی تحریک کے جذباتی لیڈر پیر بھائی ظہور احمد صاحب دھریجا نے اسے سرائیکی کہنے جانے والوں کے خلاف اور پنجابی زبان بولنے والوں کے حق میں جان کر لہر کھیلنا شروع کر دیا اور اپنے چند ایک یاروں کے کہنے پر میری کتاب کی تردید کرنا چاہا ۔ جب پیر بھائی صاحب نے اس کی صحیح اور سچی حقیقتوں کو جھٹلا کر اس کی تردید کرنے کا یارانہ دیکھا تو انہوں نے اپنے بھرم رکھنے کی خاطر اپنی غلط نام کی کتاب ’’سرائیکی اجرک‘‘ میں اسے تھوکٹاکہہ کر اور اوٹ پٹانگ باور کرا کر اور اس کی تردید سے اپنے جان چھڑا کر اپنے یاروں کے سامنے سرفراز و سربلند ہو گیا ۔ اور علمی خانت کرکے میری کتاب کی عبارتوں کو توڑ مروڑ کر اور ان کے مطالب کو غلط انداز میں پیش کرکے لوگوں کو غلط تاثر دیا اور میرے حق میں بھی غیر مہذبانہ اور جاٹکانہ زبان استعمال کی اور میرے چکر میں تمام علمائے دین کی بھی توہین کر ڈالی ۔
نذیر الحق دشتی نقشبندی
[لکھو | ماخذ وچ تبدیلی کرو]نذیر الحق دشتی سرائیکی دشمنی پر مبنی اس کی کتاب ’’سرائیکی ، پنجابی اور سرائیکستان‘‘ کا جواب دردی ادبی سنگت کوٹ سبزل کے نور احمد دردی چوہان نے سرائیکی کتاب ’’اَکھ پٹ ݙند نہ پٹ‘‘ کے نام سے دیا ۔ یہ کتاب 2020ء میں شائع ہوئی اس کے64صفحات ہیں ۔نذیرالحق دشتی کی طرح نور احمد دردی نے بھی طابع زیر اہتمام دردی ادبی سنگت کوٹ سبزل لکھا جو کہ غلط ہے ۔
سرائیکی ‘پنجابی اور سرائیکستان
[لکھو | ماخذ وچ تبدیلی کرو]مولوی نذیر الحق دشتی دی کتاب سرائیکی ، پنجابی اور سرائیکستان میں سرائیکی دے خلاف جیرھا کجھ لکھیا ڳیا تے ظہور احمد دھریجہ کوں وی مخاطب کیتا ڳیا تاں ظہور احمد دھریجہ اپݨی کتاب ’’سرائیکی اجرک‘‘ مطبوعہ جھوک پبلشر ملتان ، اشاعت دوم ، جون2018ء دے صفحہ 381-382-383تے جواب دے طور تے لکھدن :
مُلاں نہیں کہیں کار دے، شیوے نہ ڄاݨن یار دے
سِمجھن نہ بھیت اسرار دے ، ونڄ کنڈ دے بھرݨے تھئے دݨیں
سرائیکی پُکار دی ڳال آئی تاں اِتھاں ہِک کتاب دا ذکر تھی ونڄے ۔ میانوالی قریشیاں رحیم یار خان وچوں میکوں مخدوم نور محمد ہاشمی مرحوم دے صاحبزادے مخدومزادہ صفی الدین ہاشمی فون تے آکھیا جو ’’سرائیکی پنجابی اور سرائیکستان‘‘ ناں دی کتاب تساں پڑھی اے ۔ میں آکھیا ، کائناں ، اُنہاں آکھیا مولوی نذیر الحق دشتی نقشبندی ناں دے کہیں لکھاری کوں ڄاݨدو ؟ میں آکھیا کائناں ۔ مخدومزادہ صفی الدین ہاشمی مولوی نذیر الحق دشتی کوں پہلے تاں ’’چار سدھیاں سُݨائیاں‘‘ تے وَلا ݙسیا جو اوں ’’سرائیکی پنجابی اور سرائیکستان‘‘ ناں دی کتاب لکھی اے ۔ کتاب وچ سرائیکی قوم دے خلاف گندی زبان ورتی ڳی اے ۔ میں چہنداں تساں ایندا ولدا ݙیو ، میں بھونگ اِچوں کتاب منگوائی تے اینکوں ݙٹھا تاں اوٹ پٹانگ دے سوا میکوں کجھ نظر نہ آیا ۔ میکوں ایویں لڳا جیویں کہیں مدرسے دے مولوی دی جاہ تے کہیں متعصب تے سرائیکی ماء دھرتی دے دشمن اے کتاب لکھی اے۔ کتاب اِچ سرائیکی دے خلاف حسد ، کینہ تے بغض دے سوا کجھ نہ ہا۔ مخدوم زادہ صفی الدین دے بعد عظیم سرائیکی دانشور سئیں سید انیس شاہ جیلانی سئیں کتاب بھڄوائی تے نور احمد چوہان دردی، بشیر دیوانہ تے ٻے سنگتیں وی آکھئے جو سرائیکی قوم دی توہین کرݨ آلے سانگے ولدا ضروری اے۔
کتاب ’’سرائیکی پنجابی تے سرائیکستان‘‘ مطبوعہ 2013ء مصنف نذیر احمد دشتی نقشبندی مہتمم مدرسہ احسن العلوم نقشبندیہ ۔ کچہ رازی بھونگ صادق آباد ۔ اپݨے بارے لکھئے ’’ایک غیر جانبدار شخص کے قلم سے لکھی گئی صحیح اور سچی حقیقتوں پر مبنی سادہ سی کتاب‘‘ لکھݨ آلا کتنا غیر جانبدار ، کتنی سچی تے حقیقی کتاب اے؟ ایندا اندازہ ایں توں لاتا ونڄ سڳدے جو مولوی صیب صفحہ 12تے لکھدے جو ’’سرائیکی کا نام 2000ء میں میرے کانوں میں پڑا، میں نے ایک تعلیمیافتہ دوست سے کہا تم بھی سرائیکی اور میں بھی سرائیکی ہوں ، مجھے سرائیکی کی وجہ تسمیہ بتائو۔ اس نے کہا ہم تو سنی سنائی پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ مولوی نذیر الحق اڳوں ونڄ تے صفحہ 13تے اپݨے بارے لکھدن ’’بھائی ! تم بخوبی جانتے ہو کہ میں سرائیکی (جٹ) نہیں بلکہ بلوچی ہوں۔‘‘
مولوی صیب صفحہ 12تے خود کوں سرائیکی تے صفحہ13تے خود کوں بلوچی لکھدے ، ایں توں پتہ لڳ ڳیا جو جیرھا شخص کتاب دے پہلے صفحے تے آپ کوں غیر جانبدار سچا تے حقیقت پسند لکھدے او کتنا کوڑا ہے ۔ کھوہ دے ݙیݙر آلی کار مولوی صیب فرمیندن جو میݙے کنیں وچ سرائیکی لفظ 2000ء وچ پے ۔ مولوی صیب جیرھی دھرتی تے رہندن ، جتھاں دا رزق کھمدن جے اوندے نال ساڑ ، بغض تے کینہ نہ ہووے تاں جارج گریسن دی کتاب ’’لینگوئیج سروے آف انڈیا (مطبوعہ گورنمنٹ پریس کلکتہ 1919ء) دے والیم Viiiدے صفحہ 359تے پڑھن۔ جارج گریسن لِکھدن جو سندھی کی شمالی بولی کا نام سرائیکی ہے اور یہ سندھی کی خالص ترین شکل ہے ۔‘‘ جارج گریسن ایں کتاب وچ ڈاکٹر ٹرمپ دا حوالہ ݙتے تے ہک سندھی آکھاݨ (لاڑ جو پڑھیو سرے جو ڈھگو) دے بارے لکھدن جو ’’سرے‘‘ یعنی سرائیکی علاقے دے لوک اتنے سیاݨے ہِن جو سرے دا ڈھڳا وی لاڑ (سندھ) دے پڑھیئے لکھے توں ودھ اے۔ میں مولوی نذیر الحق دشتی کوں آکھداں تھولا جیہا تاریخ دا وی مطالعہ کرو تے قرآن مجید دے فرمان ’’وعتصموبحبل للہ جمیعا ولاتفرقو‘‘ دی بے فرمانی کریندے ہوئے فرقہ بندی تے زور نہ لاؤ تے انسانیں کوں ہک ٻے نال جیوݨ ݙیو۔
مولوی نذیر الحق دشتی جیرھی دھرتی دا رزق کھمدن اوں دھرتی دی قومی سُنڄاݨ دے خلاف صفحہ 23تے لکھدن جو ’’اس خطے کو سرائیکستان کا غیر موزوں نام دینے کے بجائے ’’جٹستان ‘‘رکھا جائے۔ میں مولوی توں پُچھداں اوندی شریعت مطابق جے بلوچستان حلال اے تاں وَل ’’سرائیکستان‘‘ کیویں حرام اے؟ مولوی صاحب ہِیں صفحے تے اے وی لکھدن جو یہاں کے سید، بادشاہ ،مخدوم ،ہاشمی ، قریشی اور بلوچ ،جٹ کو حقارت سے دیکھتے ہیں اور ان کو ’’ٹکے دا جٹ‘‘ کہتے ہیں ۔ اس حقارت سے بچنے کیلئے جٹ کو ’’سرائیکی ‘‘کا نام دیا گیا۔‘‘
میں مولوی صیب کوں ݙسݨ چہنداں جو ڄٹ پیشہ ہے ‘ جیویں جو بلوچ قوم دا پیشہ گلہ بانی وی آکھیا ویندے۔ ایہ پیشے قابل فخر ہِن ۔ٻیا ایہ وی ݙسݨ چہنداں ڄٹ ذات وی ہے۔جیویں جو راجپوت ، سید، ارائیںوغیرہ اپݨی اپݨی جاہ تے ذاتاں وی قابل فخر ہِن ۔ لیکن قوم دا تعلق وطن نال ہوندے، جیرھا کاشتکار پنجاب اچ رہندے ، سندھ اچ رہندے تے بھانویں جِتھ رہندے پیشے دے اعتبار نال او ڄٹ اے ۔ قوم اوندی اوندا وطن ہوسے۔ٻیا مولوی صیب کوں ایہ وی ݙسینداں جو ابوجہل نسل دا کوئی بندہ کاشتکاری دے پیشے نال نفرت کریندا ہووے تاں ٻی ڳالھ اے نتاں ہاشمی، قریشی وی نی کر سڳدے جو انہائیں وچوں اکثریت خود ڄٹ یعنی کاشتکار تے زمیندار ہے۔ مولوی دشتی صفحہ 25پر دھمکی آمیز لہجے وچ لکھدے ’’بلوچستان سندھ کے عین شمال میں اس کے سرے پر واقع ہے نام سرائیکستان رکھا گیا تو بلوچ ہرگز برداشت نہیں کریں گے اور اس پر کٹ مرنے کو تیار ہو جائیں گے ۔ سمجھے ۔ ‘‘
میں مولوی کنوں پُچھداں جو کیا سرائیکی خطہ کہیں دے پیو دی جاگیر اے جو کوئی آکھدے ایندا ناں جنوبی پنجاب رکھو تے کوئی آکھدے ’’جٹستان‘‘ ۔ سرائیکی خطہ سرائیکی قوم دا ہے او ہزار ہا سالیں توں اِتھاں راہندن او پناہ گیر بݨ تے اِتھاں نی اَئے انہاں کوںاپݨے خطے تے اپݨے صوبے دا ناں رکھݨ دا حق حاصل ہے ۔ جئیں بدبخت کوں اے ناں چنگاں نی لڳدا او پرے مرے۔ مولوی صیب کوں علم ہووے جو پنجاب دا ناں صوبہ لاہور ہا، اردو دا ناں دکنی تے ہندی ہا تے فارسی کوں وی پہلوی آکھیا ڳے ، مولوی اوݙے تاں ڳالھ نی کریندا ، اونکوں تکلیف سرائیکی نال اے ، کیوں؟
مولوی آکھدے جو ہاشمی تے بلوچ جٹ کوں چنڳاں نی سمجھدے ، ریاض ہاشمی سرائیکی صوبہ محاذ دا بانی اے ۔ اُستاد فدا حسین گاݙی بلوچ ، عاشق خان بزدار بلوچ تے عظیم شاعر احمد خان طارق کھوسہ بلوچ دے خذمتیں کوں کون نی ڄاݨدا۔ زبان تے قومیت دا تعلق زمین نال ہوندے ، جے ایویں نہ ہووے ہا تاں جی ایم سید سندھی نہ عرب اَکھواوے ہا ۔ ایویں مولانا عبیداللہ سندھی وی پنجابی لکھواون ہا ۔ جے ایویں نہ ہووے تاں مولانا احمد مدنی ، علامہ اقبال کوں اے نہ آکھن ہا جو ’’قومیں اوطان سے بنتی ہیں ادیان سے نہیں‘‘ ۔ یاد رکھو! جیرھا بندہ جیرھی دھرتی تے رہندے اوندی نسبت اوہا ہوندی اے جیویں سرکارؐ مکے اِچ ہَن تاں مکی تے مدینے تشریف گھن آئے تاں مدنی ۔ پوری دنیا دا ایہو اصول اے ۔ سرائیکی دھرتی دا ہر حلالی پُتر ایویں ہے ۔ پر کجھ ناخلف اپݨے آپ کوں ماء دھرتی دا پُتر نی اَکھیندے تاں اساں نی آکھدے او آپ ݙساوِن جو او کیا ہِن ؟ مولوی نذیر الحق دی کتاب تے جاہ جاہ تے سرائیکی تے سرائیکی قوم دی توہین لکھی پئی اے ، میں چہندا ہم جو ہک ہک سطر دا جواب ݙیواں تے مولوی کوں ݙساواں جو قومیں دی توہین کیویں کیتی ویندی اے ۔ پر جݙاں میں کتاب دے صفحہ30تے آیاں تاں اِتھاں مولوی نذیر الحق اپݨی قومیت بارے لکھدن جو بلوچ ’’نمرود‘‘ دی اولاد ءِ ن ۔ مولوی صاحب دی کتاب دے لوظ اے ہِن:
’’اس سے قبل بلوچوں کے بارے میں میرا نظریہ کچھ اور تھا مگر کتب تواریخ میں بلوچ مؤرخین کا نظریہ دیکھ کر میں نے پہلے نظریے سے رجوع کرکے بلوچوں کے نمرود بادشاہ کی اولاد ہونے کا نظریہ اپنا لیا ہے ۔ بلوچ واقعی نمرود کی اولاد ہیں۔‘‘
صفحہ 30پڑھݨ دے بعد میں اپݨا قلم روک ݙتے جو جیرھے شخص دی اتنی وݙی قوم (بلوچ )جیندے بارے او اپݨی کتاب اِچ بار بار ذکر کریندا رہ ڳے جو میں بلوچ آں‘ بارے تحقیق دا حال اے ہے تاں وَل ایجھے شخص دی ذہنی طاقت تے تندرستی واسطے دُعا کروں نہ کہ ولدیاں ݙے تے اپݨا ویلہا ضائع کروں۔
سرائیکستان کی بحث
[لکھو | ماخذ وچ تبدیلی کرو]ملتان دے صحافی اقبال مبارک دی کتاب ہے ۔ اے کتاب عوام دوست فائونڈیشن بھکر دی طرفوں ملک احمد خان اعوان 2011ء اِچ شائع کرائی ۔ 160صفحے دی ایں کتاب اِچ 36اہل قلم دیاں تحریراں موجود ہِن ۔ جنہاں وچ تاج محمد خان لنگاہ ، ظہور دھریجہ ، مظہر جاوید ، محمد افضل خان ڈھانڈلہ ، نیاز لکھویرا،سجاد جہانیہ ، محمد سعید احمد شیخ تے ٻے نامورلوک شامل ہن۔ایں ساری کتاب وچ ساری بحث ظہور احمد دھریجہ دے کالم ’’آئو سرائیکی سرائیکی کھیلیں ‘‘توں شروع تھئی تے نال ایندے وچ سرائیکی صوبہ، سرائیکی وسیب دی محرومی ، سرائیکی وسیب دے مسئلے تے ٻے موضوعات وی آندے ڳے ۔کتاب دے ناشر ملک احمد خان لکھدن:
مجھے محترم ظہور دھریجہ کی بات نے بھی بہت متاثرکیا انہوں نے دلیل کے ساتھ ’’جنوبی پنجاب‘‘ کی بات کو رد کیا اور کہا کہ ہمارا بھکر ، میانوالی ، خوشاب وغیرہ پنجاب کے جنوب میں آتے ہی نہیں ، اس لئے ہم یہ صوبہ اور نام کبھی قبول نہیں کریں گے ، سچ پوچھیئے جب کوئی جنوبی پنجاب ’’جس میں ظاہر ہے بھکر والے شامل نہیں) کا نام لیتا ہے تو ہمیں گولی لگتی ہے اسی طرح سرائیکی وسیب کو تقسیم کرنے والی بہاول پور صوبے کی بات بھی ہمارے لئے سخت ناپسندیدگی ہے ، اس لئے محترم ظہور دھریجہ کا جواب مجھے پسند آیا خصوصاً انہوں نے اپنی گفتگو میں یہ بھی کہا کہ ٹانک ، دیرہ اسماعیل خان ، میانوالی ، خوشاب ، بھکر اور جھنگ کے لوگوں کی سہولت کیلئے سرائیکی صوبے کا دارالحکومت ہیڈ محمد والا سے ’’پار‘‘ تھل میں ’’نیو ملتان سٹی‘‘ کے نام سے ہونا چاہیئے ۔(8)
’’ جواب ظہور احمد دھریجہ کیلئے ‘‘دے عنوان نال سجاد جہانیہ لکھدن کہ ظہور دھریجہ صاحب نے مجھے ملتان سے اخبار نکالنے کا مشورہ دیا ہے کہ
’’آپ کو ظہور دھریجہ صاحب نے ایک مشورہ ملتان سے سرائیکی اخبار نکالنے کا بھی دیا ہے ۔ اخبار نکالنا اور اسے چلانا پاکستان میں آپ سے بہتر کوئی نہیں جانتا ، لیکن جو کچھ آپ سے سیکھا ہے ، اس کی بنا پر میرا عاجزانہ مشورہ یہ ہے کہ ایسا نہ کریں کیونکہ سرائیکی اخبار نکال کر نہ تو سرائیکی زبان کی خدمت ہو سکتی ہے اور نہ ہی اس سے سرائیکی کیفروغ یا مقامی مسائل کے حل کا کوئی کام لیا جا سکتا ہے ۔ میرے خیال میں یہ کام ’’خبریں‘‘ ملتان ’’وسیب رنگ‘‘ کی شکل میں اور صفحہ دو پر سرائیکی قطعہ کی اشاعت کی صورت میں زیادہ بہتر کر رہا ہے ۔ اسے مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔ ’’خبریں‘‘ قومی زبان کا اخبار ہے ۔ ملتان میں اس کی تعداد اشاعت بھی پہلے نمبر پر ہے اور عوام میں اس کی Penetration بھی زیادہ ہے ۔‘‘(9)
شاکر شجاع آبادی سے تنازع:
[لکھو | ماخذ وچ تبدیلی کرو]جھوک پبلشر دے مالک ظہور احمددھریجہ دا معروف سرائیکی شاعر شاکر شجاع آبادی نال تنازع تھیا ۔ ایں تنازعے وچ جھوک کتاب گھر دے سیلز مین محمد شریف بھٹہ گرفتار تھئے ۔ ظہور احمددھریجہ دا آکھݨ ہے جو شاکر شجاع آبادی نال کُئی تنازع نہ ہئی ،جھیڑا ودھواوݨ اِ چ شجاع آباد دے سلیم قریشی دا ہتھ سب توں زیادہ ہے ۔ سلیم قریشی دے جواب اِ چ 31دسمبر2014ء کوں ’’خبریں‘‘ اخبار وچ لکھیا جیندا کُئی ولدا نہ ملیا ۔
رائلٹی کون معاف کرا رہا ہے
[لکھو | ماخذ وچ تبدیلی کرو]’’شجاع آباد کے محترم سلیم قریشی نے روزنامہ خبریں31دسمبر2014ء کی اشاعت میں ’’کتب کی رائلٹی کی معافی ، شاکر شجاع آبادی کا استحصال کیوں؟‘‘ کے عنوان سے ادارہ جھوک اور ہماری تنظیم سرائیکستان قومی کونسل کا نام لئے بغیر الزام لگایا ہے کہ ہم نے شاکر شجاع آبادی کا استحصال کیا ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ’’شاکر شجاع آبادی کے دونوں بیٹوں نوید شاکر اور ولید شاکر سے یہ سن کر کہ ان کی زیادہ تر کتب شائع کرنے والے ادارے کے سربراہ نے شاکر شجاع آبادی سے کہا کہ رائٹی معاف کریں۔ دُکھ کے ساتھ حیرت بھی ہوئی کہ ہم صوبہ سرائیکستان کی تحریک اس لئے چلا رہے ہیں کہ ہمارے خطے کا استحصال ہو رہا ہے ۔ یہ ہمارے وسائل اور حقوق غصب کئے جا رہے ہیں اور رائلٹی معاف کرانے والی شخصیت کا صوبہ سرائیکستان کے بڑے دانشوروں میں شمار ہے ۔‘‘(10)
ظہور احمد دھریجہ اَکھیندن جو وسیب دشمن شرپسندیں دیاں کوششاں اوں ویلے ناکام تھی ڳیاں جݙاں شاکر شجاع آبادی شجاع آباد دے نزدیک وستی کھوکھراں اِ چ نعیم انجم دے مشاعرے وچ میکوں ملیے تے تنازعے مسئلے تے افسوس دا اظہار کیتا ۔ بعد اِ چ جھوک دے دفتر وی اَئے تے میکوں گھر آوݨ دی دعوت ݙے ڳئے ۔ کجھ عرصہ بعد میں شاکر شجاع آبادی دے گھر ڳیا تے سارے گلے شکوے ختم تھی ڳئے۔
حوالہ
[لکھو | ماخذ وچ تبدیلی کرو]ظہور احمد دھریجہ دی سرائیکی ادبی خدمات دا جائزہ (مقالہ نگار: شائستہ ظہور،بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان) نگران مقالہ: ڈاکٹر محمد ممتاز خان کلیانی