سرائیکی زبان و ادب ایک تاریخ ایک جائزہ
ڈاکٹر مقبول گیلانی ہک محقق تے نقاد ہن ۔ کجھ عرصہ قبل قرآن مجید دے سرائیکی تراجم دا تحقیقی و تنقیدی کم کر چُکن ۔ اے کتاب اُنہاں دے پی ۔ ایچ ۔ ڈی مقالے دا پہلا باب ہے ۔ طلبہ تے ریسرچ سکالرز واسطے ایں باب دی اہمیت پاروں اینکوں کتابی شکل ݙتی ہے ۔ کتاب9ابواب تے مشتمل ہے ، پہلے 8باب سرائیکی زبان دے آغاز و ارتقاء ، تاریخی پس منظر ،وجہ تسمیہ ، اوصاف و محاسن تے مشتمل ہے ۔ آخری درگھیل باب سرائیکی زبان دے قدیم منظوم تے منشور دینی ، صوفیانہ تے کربلائی ادب تے تراجم تے مشتمل ہے ۔
’’سرائیکی زبان و ادب ایک تاریخ ایک جائزہ ‘‘پروفیسر ڈاکٹر مقبول گیلانی کی یہ کتاب اُن کے ڈاکٹریٹ کے اُس مقالے کا پہلا باب ہے جس کا پہلا ایڈیشن دو سال قبل شائع ہوا ۔ اب یہ دوسرا ایڈیشن ہے ۔ اس مقالے کے لئے موصوف نے کئی سال محنت کی ۔وہ لائق صد مبارک باد ہیں کہ انہوں نے ایک منفرد اور اہم موضوع پر ڈاکٹریٹ کرنے کا اعزازحاصل کیا ۔ میری خواہش ہے کہ مقالے کے تمام ابواب جو کہ قرآن مجید اور دینی ادب کے حوالے سے اہم دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں ، شائع ہوں۔ پہلے کے بعد مقالے کا دوسرا باب بھی بہت جلد آپ کے ہاتھوں میں ہوگا ، خدا نے چاہا تو ایک ایک کرکے مکمل مقالہ شائع کیا جائیگا جو کہ پانچ ابواب پر مشتمل ہے‘‘۔
حوالہ
[لکھو | ماخذ وچ تبدیلی کرو]ظہور احمد دھریجہ دی سرائیکی ادبی خدمات دا جائزہ (مقالہ نگار: شائستہ ظہور،بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان) نگران مقالہ: ڈاکٹر محمد ممتاز خان کلیانی