بہاول پور دا دربار
علامہ اقبال تے اعتراض کیتا ویندے جو اوں انگریز کوں سردا خطاب واپس نہ کیتا اوں ریاست بھوپال تے مختلف امراء دے نال انگلش گورنمنٹ توں مراعات تے ویفے گھندا ہا پر اے وی تاں حقیقت اے جو اقبال درباری شاعر نہ ہا ، او انگریز سماج ، جاہاہلانہ پیر پرستی ، ملائیت اَتے جاگیردارانہ سماج دے خلاف کھل تے ڳالھ کیتی ، انگریز دا ساتھ ݙیوݨ والے پنجاب اَتے پنجابی دی سخت الفاظ وچ مذمت کیتی ، ریاست بہاول پور دی اسلام تے علم دوستی دی تعریف کیتی ۔ سرائیکی ریاست بہاول پور کوں اے اعزاز حاصل اے ، جو ایندی شان وچ ’’دربار بہاول پور‘‘ دے ناں تے طویل قصیدہ لکھیا۔
تفصیل ایویں ہے جو 1903ء وچ جشن تاج پوشی تقریب وچ وائسرائے ہند ، والیان ریاست ہائے متحدہ ہندوستان تے پوری دنیا وچوں اکابرین اَئے ہوئے ہن ، علامہ اقبال کوں وی ایں کٹھ وچ شریک تھیوݨ دی دعوت ہئی ، علامہ آوݨ دی اطلاع بھیجی تے آکھیا ہا جو او ایں موقع تے قصیدہ پڑھسن ، پر کہیں وجہ توں او نہ آ سڳیے ، پر دربار بہاول پور دے ناں تے قصیدہ لکھیا جو کتاب باقیات اقبال ‘‘ وچ درج ہے قصیدے دا رنگ ݙیکھو، ایندے وچ بہشت بریں وانگے سوہݨی تے من موہݨی سرائیکی دھرتی دی تصویر کشی کیتی ڳئی اے ، اَڄ اساں اپݨی مٹی ، اپݨی دھرتی اَتے اپݨے وسیب دی محبت بھلا ݙتی اے پر پنجاب بارے ’’ہیں اہل نظر کشور پنجاب سے بیزار‘‘ آکھݨ والے علامہ اقبال سرائیکی سلطنت اَتے ایں زمین دی کتنی تعریف کیتی اے؟ ایہا ساری ڳالھ سوچ وچار ، غور و فکر اَتے سݨݨ سمجھݨ نال تعلق رکھدی اے ، علامہ اقبال دی اے وی عظمت اے جو انہاں ایں طویل قصیدے وچ نواب بہاول پور کوں اے وی آکھے جو ’’بادشاہوں کی عبادت ہے، رعیت پروری ، اِتھوں اندازہ تھیندے جو علامہ اقبال قصیدے وچ نصیحت تے ہدایت دے پہلو کوں نظر انداز نی کیتا ، ایہا انہاندی وݙائی اے ، تے آئو ’’دربار بہاول پور‘‘ علامہ اقبال دا قصیدہ پڑھوں ۔ قصیدے دی ہک ہک سطر تے زیر زبر ݙاھی توجہ تے غور دی طالب اے۔
٭٭٭
دربار بہاول پور
علامہ سر محمد اقبال
بزم انجم میں ہے گو چھوٹا سا اِک اختر زمیں
آج رفعت میں ثریا سے بھی ہے اوپر زمیں
اوج میں بالا فلک سے مہر سے تنویر میں
کیا نصیبہ ہے ہی ہر معرکہ میں در زمیں
انتہائے نور سے ہر ذرہ اختر خیز ہے
مہرو ماہ و مشتری صیغے ہیں اور مصدر زمیں
لے کے پیغام طرب جاتی ہے سوئے آسماں
اب نہ ٹھہرے گی کبھی اطلس کے شانوں پر زمیں
شوق بک جانے کا ہے فیروزہ گردوں کوبھی
مول لیتی ہے لٹانے کے لئے گوہر زمیں
بسکہ گلشن ریز ہے ہر قطرہ ابر بہار
ہے شگفتہ صورت طبع سخن گستر زمیں
برگ گل کی رگ میں ہے جنبش رگ جاں کی طرح
ہے امیں اعجاز عیسیٰ کی کہ افسوں گر زمیں
خاک پر کھینچیں جو نقشہ مرغ بسم اللہ کا
قوت پرواز دے دے حرف قمر کہہ کر زمیں
صاف آتا ہے نظر صحن چمن میں عکس گل
بن گنی آپ اپنے آئینے کی روشن گر زمیں
اس قدر نظارہ پرور ہے کہ نرگس کے عوض
خاک ہے گرتی ہے پیدا چشم انکسار زمیں
امتحاں دو اس کی وقعت کا جو مقصود چمن
خواب میں سبزے کے آئے آسماں بنکر زمیں
چاندنی کے پھول پر ہے ماہ کامل کا سماں
بدن کو ہے اوڑھے ہوئے مہتاب کی چادر زمیں
آسماں کہتا ہے ظلمت کا جو ہو دامن عین داغ
دھو دے پانی چشمہ خورشید سے لے کر زمیں
چومتی ہے دیکھنا جوش عقیدت کا کمال
پائے تخت یادگار غم پیغمبر زمیں
زینت مند ہوا عباسیوں کا آفتاب
ہو گئی آزاد احسان شہ خاور زمیں
یعنی نواب بہاول خاں کرے جس پر فدا
ہجر موتی ، آسماں انجمن ، زر گوہر زمیں
جس کے بدخواہوں کی شمع آرزو کے واسطے
رکھتی ہے آغوش میں صد موجہ صرصر زمیں
جس کی بزم مسند آرائی کے نظارے کو آج
دل کے آئینہ سے لائی دیدہ جوہر زمیں
فیض نقش پا سے جس کے ہے وہ جاں بخشی کا ذوق
شمع سے لیتی ہے پروانے کی خاکستر زمیں
جس کی راہ آستاں کو حق نے وہ رتبہ دیا
کہکشاں اس کو سمجھتا ہے فلک محور زمیں
آستانہ جس کا ہے اس قدم کی اُمید گاہ
تھی کبھی جس قوم کے آگے جبیں گستر زمیں
جس ے فیض پا سے شفاف مثل آئینہ
چشم اعدامیں چھپا کر آگے خاک کا عنصر زمیں
جس کے ثانی کو نہ دیکھے مدتوں ڈھونڈے اگر
ہاتھ میں لیکر چراغ لالہ احمر زمیں
وہ سراپا نور اِک مطلع خطا بیہ چڑھوں
جس کے ہر مصرع کو سمجھے مطلع خاور زمیں
اے کہ تیرے آستاں سے آسماں انجم لجیب
اے کے ہے تیرے کرم سے معدن گوہر زمیں
لے کے آئی ہے برائے خطبہ نام سعید
چوب نخل طور پر ترشا ہوا منبر زمیں
تیری رفعت سے جو یہ حیرت میں ہے ڈوبا ہوا
جانتی ہے مہر کو اِک مہرہ ششدر زمیں
ہے سراپا طور عکس رائے روشن سے ترے
دورنہ تھی بے نور مثل دیرہ عنبر زمیں
مانا نازش ہے تو اس خاندان کے واسطے
اب تلک رکھتی ہے جس کی داستان ازبر زمیں
ہو ترا عہد مبارک صبح حکومت کی نمود
وہ چمک پائے کہ ہو محسود ہر اختر زمیں
سامنے آنیکھوں کے پھر جائے سماں بغداد کو
ہند میں پیدا ہو پھر عباسیوں کی سر زمیں
محو کر دے عدل تیرا آسماں کی کجدی
کلیات دہر کے حق میں بنے مسطر زمیں
صلح ہو ایسی گلے مل جائیں ناقوس و اذاں
ساتھ مسجد کے رکھے بت خانہ آزر زمیں
نام شاہنشاہ اکبر زندہ جاوید ہے
ورنہ دامن میں لئے بیٹھے ہے سو قیصر زمیں
بادشاہوں کی عبادت ہے رعیت پروری
ہے اسی اخلاص کے سجدے سے قائم ہر زمیں
ہے مروت کی صرف میں گوہر تسخیر دل
یہ گہر وہ ہے کرے جس پر فدا کشور زمیں
حکمران مسرت شراب عیش و عشرت ہوا اگر
آسماں کی طرح ہوتی ہے ستم پرور زمیں
عدل ہو مالی اگر اس کا یہی فردوس ہے
ورنہ ہے مٹی کا ڈھیلا خاک کا پیکر زمیں
ہے گل و گلزار محنت کے عرق سے سلطنت
ہو نہ یہ پانی تو پھر سر سبز ہو کیونکر زمیں
چاہئے پہرا دماغ عافیت اندیش کا
بیداری میں ہے مثال گنبدِ خضرا زمیں
لامکاں تک کیوں نہ جائے گی دُعا اقبال کی
عرش تک پہنچی ہے جس کے شعراء کی اڑ کر زمیں
خاندان تیرا رہے زیبندہ تاج و سریر
جب تلک مثل قمر کھاتی رہے چکر زمیں
مسند احباب رفعت سے ثریا بوس ہو
خاک رخت خواب ہوا عدا کا اور بستر زمیں
تیرے دشمن کو اگر شوقِ گل و گلزار ہو
باغ میں سبزے کی جا پیدا کرے نشتر زمیں
پاک ہے گرد غرض سے آئینہ اشعار کا
جو فلک رفعت میں ہو لایا ہوں وہ چن کر زمیں
تھی تو پتھر ہی مگر مدحت سرا کے واسطے
ہو گئی ہے گل کی پتی سے بھی نازک تر زمیں
٭٭٭
حوالہ
[لکھو | ماخذ وچ تبدیلی کرو]کتاب: علامہ اقبال تے سرائیکی وسیب ،مصنف : ظہور دھریجہ، ناشر: جھوک پبلشرز ملتان