اساطیر
اساطیرایجھیاں کہاݨیاں ہوندن جنہاں وچ دیویاں دیوتاں دے مافوق الفطرت کارنامیاں ، زمین واَسمان تے کائنات دے متعلق واقعات بیان کیتے ویندن ۔ ’’اسطورہ یا خرافہ‘‘ کیتے انگریزی وچ (Myth)دا لفظ ورتیا ویندے۔ بقول ڈاکٹر آرزو چودھری:
’’متھ یونانی لفظ ’’مائی تھس(Mythos)سے اخذ کیا گیا ہے جس کے معانی گفتہ چیز یا منہ سے کہی ہوئی بات ہے جو ایک تقریر یا کہانی ہو سکتی ہے ۔ تاہم خاص اصطلاح میں کسی دیوتا کی زندگی کے حالات اس کے کارنامے یا مہمات پر بنی کہانی کو متھ کہتے ہیں۔‘‘(15)
بقول سہیل بخاری اسطور(Myth):
[لکھو | ماخذ وچ تبدیلی کرو]’’متھ وہ فرضی قصہ ہے جس میں مافوق الفطرت مخلوقات ، حرکات یا واقعات کا بیان ہوتا ہے اور جو قدرتی یا تاریخی مظاہر سے متعلق کوئی خیال پیش کرتا ہے ۔ اساطیر کا واحد مقصدکسی رسم ’ عقیدے ، ادارے یا مظاہر قدرت کی تشریح کرنا ہوتا ہے ۔ میلی نووسکی کہتا ہے کہ اساطیر کسی سماجی رسم یا عقیدے کا ازمنہء قدیم کی کسی ’’بہتر‘’ زیادہ اعلیٰ اور زیادہ مافوق الفطرت حقیقت میں سراغ لگا کر اسے مستحکم بناتی اور اس کی قدر و قیمت میں اضافہ کرتی ہیں۔ تھسلی کے یوہیمیر س کا خیال ہے کہ دیوتا ازمنہء قدیم کے قومی ہیرو ہیں جنہیں الوہیت کا درجہ دے دیا گیا ہے ۔ ایک تیسرے نظریے کی رو سے دیومالا وحشی زندگی اور اس کے تجربات سے متعلق ہے۔‘‘(16)
ڈاکٹر مہر عبدالحق اپݨی کتاب ’’ہندو صنمیات‘‘ وچ اساطیر بارے لکھدن:
’’قدیم انسان نے دنیا اور مافیہا کو اپنی تفہیم کی سطح کے مطابق جس انداز میں معانی پہنانے کی کوشش کی ہے اس کے واضح نشانات ہمیں ان اساطیر الاوّلین میں ملتے ہیں جن میں مختلف قبائل نے اپنے آبائو اجداد یا ہیروز یا فوق البشر ہستیوں کے مفروضہ یا نیم حقیقی کارناموں کو محفوظ رکھا ہوا ہے ۔ یہ کارنامے اچھے یا بُرے ، اعلیٰ یا ادنیٰ کردار و عمل کے ایسے اَنمٹ نقوش ہیں جو ہزارو ںسالوں سے سینہ بہ سینہ اور نسلاً بعد نسل تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچے۔ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ روایتی کہانیاں حقیقی تھیں یا ان میں حقیقت کم اور تخیل کا آمیزہ زیادہ تھا ، یا بالکل فرضی اور مبالغہ آمیزی کی پیداوار تھیں کیونکہ بعض ٹھوس تاریخی واقعات کو بھی عقیدت مندی کے غلونے اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے کہ وہ تاریخ کی حدود سے نکل کر افسانوی ادب کا حصہ بن گئے ہیں۔ ان روایتی کہانیوں کو اصطلاح میں ’’دیومالا‘‘ یا ’’متھ‘‘ کہا جاتا ہے اور وہ علم جو ان کہانیوں کا خصوصی مطالعہ کرتا ہے ’ مائتھالوجی کہلاتا ہے۔‘‘(17)
فن بیون(Finn Bewan) Mythبارے آہدن:
"MYTH: A story that is not basd in historical fact but which uses supernatural characters to explain natural phenomena, such as the weather, night and day, the rising tides, and sun. Before the scientific facts were known, ancient people used myths to make sense of
the world around them."(18)
حوالہ
[لکھو | ماخذ وچ تبدیلی کرو]سرائیکی لوک قصیاں دے کردار، مصنف : شہزاد اسد خان لغاری ، ناشر: جھوک پرنٹرز ‘ ملتان