Jump to content

اخلاقی کہاݨیاں

وکیپیڈیا توں

حیوانی کہاݨیاں (فیبل) نال ملدیاں جُلدیاں اخلاقی کہاݨیاں کوں انگریزی وچ پیرا بلس (parables)آکھیا ویندے۔ ڈاکٹر سہیل بخاری فیبل تے پیرا بل دا فرق ایں بیان کریندن۔

’’ان دونوں قسم کی کہانیوں کا مقصد سبق آموزی ہی ہوتا ہے۔ اس لئے دونوں باہم دگراس قدر قریب ہیں کہ ان میں تفریق کرنا بہت مشکل ہے ۔ نینڈر ان کا فرق یوں بیان کرتا ہے کہ حیوانی کہانیوں میں انسانی جذبات و افعال حیوانات سے متعلق کر دئیے جاتے ہیں یعنی وہ بالکل انسانوں کی طرح بولتے ، سوچتے ، کھاتے پیتے ،ہنستے اور غم منانتے ہیں۔ اخلاقی کہانیوں میںبھی ادنیٰ مخلوق اعلیٰ زندگیوں کو پیش کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے لیکن وہ امکانی حدود سے آگے نہیں بڑھتی ۔ وہ انہیں صفات سے متصف ہوتی ہے اور اسے وہی افعال سرزد ہوتے ہیں جو اس نوع کے لئے مخصوص ہیں ۔ حیوانی کہانیوں کی طرح یہاں انسانی خصوصیت حیوانوں سے منسوب نہیں کی جا تیں۔اخلاقی کہانیوں میں حقیقی یا فرضی واقعات کا استعارے میں بیان ہوتا ہے اور البتہ اختصار اور سادگی میں یہ حیوانی کہانیوں سے مشابہ ہوتی ہیں۔‘‘(13)

فیبل تے پیرابل ݙوہائیں قسم دیاں کہاݨیاں مشرق وچ عام ہِن ۔ جنہاں وچ پنج تنتر ، ہتوپدیش ، گلستان ، مثنوی مولانا روم ، الف لیلیٰ ، داستان امیر حمزہ ، رامائن اَتے مہا بھارت وچ حیوانی تے اخلاقی کہاݨیاں کثرت نال مِلدِن۔

سرائیکی لوک قصیاں دے کردار، مصنف : شہزاد اسد خان لغاری ، ناشر: جھوک پرنٹرز ‘ ملتان